بیانِ حال مفصّل نہیں ہوا اب تک جو مسئلہ تھا وہی حل نہیں ہوا اب تک نہیں رہا کبھی میں تیری دسترس سے دور مِری نظر سے تُو اوجھل نہیں ہوا اب تک بچھڑ کے تجھ سے یہ لگتا تھا ٹوٹ جاؤں گا خدا کا شکر ہے پاگل نہیں ہوا اب تک جلائے رکھا ہے … Continue reading Bayaan E Haal Mufassal Nahi Hua Ab Tak
0 Comments